موج گل کے پیچھے پڑ کر کیوں دیوانی ہوئی ہے مٹی
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIموج گل کے پیچھے پڑ کر کیوں دیوانی ہوئی ہے مٹی
ٹھوکر کھا کر خود آئے گا جس کی جہاں لکھی ہے مٹی
گلیاں گھپ ہیں میدان چپ ہیں اور وہ دیوانہ بھی نہیں
مٹی کا دل بیٹھ گیا ہے کس کی آج اٹھی ہے مٹی
آنکھیں آنسو دل بھی آنسو شاید ہم سر تا پا آنسو
تھوڑی مٹی اور ملا دے ابھی بہت ہے گیلی مٹی
مٹی کا ایک اور کھلونا زیست بنانے والی ہے
خاموشی سے دیکھ تو آؤ اس آنچل میں بندھی ہے مٹی
آہن جیسی دیواریں ہوں یا انسان کا جسم خاکی
مٹی کی فطرت آزادی ہے قید نہیں رہ سکتی مٹی
پچھلے سال یہیں بہت سی ٹوٹی قبریں منہ کھولے تھیں
دھرتی کے زخموں کو کتنی جلدی بھر دیتی ہے مٹی
میں ٹھہرا مٹی کا مادھو جادیوانی راہ لے اپنی
تو سونے چاندی کی مورت خود کو کیوں کرتی ہے مٹی
یہ جو دل سونا اک تر ہے پہلے اک پتھر کا بت تھا
صدیوں یہ آنکھیں روئی ہیں صدیوں تک بھیگی ہے مٹی
ہر ذرے میں راز نیا ہے گو مٹی کے تم ہو کھلونے
اک اک شعر میں بدر تمھارے جیسے بدل رہی ہے مٹی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






