وہ عشق جو اب ہم سے روٹھ گیا
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadوہ عشق کبھی میرا ہوا کرتا تھا
وہ عشق گہرے سمندروں کی جان ہوا کرتا تھا
وہ عشق جس کی صدا مجھے چاہت تھی
وہ عشق جو میری تلاش کی منزل تھی
وہ عشق جس کے سوا دنیا نظر نہ آتی تھی
وہ عشق جس سے میری صبح رونق ہوا کرتی تھی
وہ عشق لمبی لمبی راتوں میں ستاروں سے بھی ہوا کرتا تھا
وہ عشق جو میرے لیے تھا اس کے دل میں
وہ عشق جس میں ڈوب کر میں تیراکی بھول گئی تھی
وہ عشق جب مجھ سے روٹھا
تو ایسے روٹھ گیا
جیسے
میرے ہاتھ سے زندگی کا سہارا چھوٹھ گیا
وہ عشق کیوں ہم سے روٹھ گیا
جو کبھی میرا ہوا کرتا تھا
وہ عشق اب ہم سے روٹھ گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






