وہ عنایات کا عنوان نظر آتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAوہ عنایات کا عنوان نظر آتے ہیں
جب کبھی مجھ پہ مہربان نظر آتے ہیں
بڑھ رہی ہیں جو عنایات تمہاری ہم پر
ان سے ہم اور پریشان نظر آتے ہیں
خامشی سے تری ہم خوف زدہ ہیں کہ ہمیں
تری اس چپ میں بھی طوفان نظر آتے ہیں
ہم نے ماتھے پہ شکن جب سے تمہارے دیکھی
ہم کو سب چہرے پریشان نظر آتے ہیں
ہے انہیں فکر زمانے کی سبھی کا ہے خیال
اور مرے حال سے انجان نظر آتے ہیں
ساتھ اس دل کے لیے جاتے ہیں سب خواب مرے
ظاہراََ بے سرو سامان نظر آتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






