وہ فریب و مکر تھا
Poet: Naeem Ahmed Malik By: Naeem Ahmed Malik, Sambrialمجھے جس نے اپنا بنا تھا وہ قرار خود نہ نبھا سکا
بہ حدیقہ ہائے موانست نہ وفا کی پینگ بڑھا سکا
ہوئےں بے جا رنجشیں کیوں اسے کیا صید تیر جفا مجھے
بڑی دل نے پائےں اذیتیں نہ جفا سے اس کی بچا سکا
بڑی تند خوئی سے شوخ نے مجھے سوز و درد و الم دیا
نہ ہی کسی کے کام میں آ سکا نہ ہی اپنی بگڑی بنا سکا
وہ کما ن ابرو کھنچی کھنچی بہ مفارقت وہ گھٹن گھڑی
نہ میں کوئی عذر ہی کر سکا نہ ہی عرض اپنی سنا سکا
وہ فریب و مکر تھا بے گماں جو محبت اس سے ہوئی عیاں
بکمال خوئے وفا گری نہ میں اس کے دل میں سما سکا
اسے خواہ کوئی وفا کہے ےا صلاح ترک کہے مجھے
کہ میں ا س غر ور شعار کو نہ جدائی میں بھی بھلا سکا
جو دیا حسین اُمید کا تھا جلایا دل کی منڈیر پر
بڑی تےز آندھی سے بجھ گےا جسے پھر کبھی نہ جلا سکا
ہوئی ایسی تیرگی بخت کو کسی زُلف برہم مزاج سے
نہ ہی عزم کا ہوا تکما نہ ہی صحیح راستہ پا سکا
ہوئےں تشنہ کامی کی تلخیاں ہوا راز مخفی مرا عیاں
سر بزم کیوں ہی نہ شرم ہو کہ نہ حال اپنا چھپا سکاییااابببببب
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






