وہ لب کشا ہوئے
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGوہ لب کشا ہوئے تو ترانہ ہوا
وہ آنکھ اٹھ گئی تو فسانہ ہوا
وہ روبرو ہوئے تو ملا زیست کو قرار
نگاہ نگاہ سے ملی اور دل دیوانہ ہوا
ہوئے قربان لاکھوں دل والے
عجب ان کا یہ مسکرانا ہوا
سب دنیا اس میں ڈُوب چلی ہے
تیری آنکھ ہوئی کہ مے خانہ ہوا
اس کی ہی گلی روز چلے جانا
صدق محبت کا ہی یہ پیمانہ ہوا
دل پریشاں چاک گریباں الجھے بال
کوئی تیرے کوچے سے یوں روانہ ہوا
رہتا تھا اس گلی میں کرو گے یاد کبھی
حیات قیصر بھی اک فسانہ ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







