وہ لڑکی تیرے لیے شاعری بحی کرتی ہے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaترے فراق میں چھپُ چھپُ کے آ ہ بھرتی ہے
وہ لڑکی تیرے لیے شاعری بھی کرتی ہے
کبھی وہ سوچ کو مجرم قرار دیتی ہے
کبھی حسین سا اِلزام دل پہ دھرتی ہے
کبھی خیال میں یوں بنَ سنور کے آ تی ہے
کہ جیسے صبح کی پہلی کرن نکھرتی ہے
کہو ہوا سے ابھی اُس سے دل لگی نہ کرے
ابھی وہ ننھیّ پرَی تتلیوں سے ڈرتی ہے
وہ جسکا تو نے ہمیشہ ہی جی جلایا ہے
وہ لڑ کی آج بھی تیرا لحاظ کرتی ہے
خدا کا شکر ہے اے شیخ ، زندگی اپنی
ہے جیسی تیسی مگر عشق میں گزرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






