وہ لڑکی مجھکو ایک ساتھ کتنے غم دے گئی
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaتوڑنے سے جو نہ توٹے ایسے برہم دے گئی،
وہ لڑکی مجھکو ایک ساتھ کتنے غم دے گئی،
اُسے معلوم تھا بچھڑ کے اُس سے مر جائوں گا
وہ جینے کی مجھکو چھوڑ کے قسم دے گئی،
نہ جان سے مارا نہ اُس نے چھوڑا مجھے
بس یادوں کے ساتھ تنہائی کا قدم دے گئی،
میری رگوں سے خون نچوڑ لیتی میں کوئی نہ گلہ کرتا
بے شک موت دے دیتی کیوں آنکھ میں مری نم دے گئی،
میری خطا تھی میں وفا کر بیٹھا سزا میں مجھکو درد ملا
چھین کے سرد وفا کی وہ ، ہواہیں ہجر کی گرم دے گئی،
مرے دل پے لگا وہ داغِ ہجر گئی جو نہ پھر مٹ سکا
کومل جیسے سینے پے لاکھوں وہ زخم دے گئی،
لے کے بہار اور میری برساتیں ساری
خزائوں کے مجھکو بے رنگ موسم دے گئی،
میری انجمنیں ساری لٹ گئی ویران سب کچھ ہو گیا
نہال کو درد سے بھری ہوئی وہ لڑکی اِک بزم دے گئی،
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






