وہ مست آنکھوں سے مجھ کو پلا رہا تھا بہت
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanوہ مست آنکھوں سے مجھ کو پلا رہا تھا بہت
نشہ تھا ایسا کہ چڑھتا ہی جا رہا تھا بہت
تھیں گرم سانسیں، بہکنے لگی تھی تنہائی
قریب حسن کا جادو بھی آ رہا تھا بہت
مہک رہے تھےمری روح میں گلاب کئی
وہ اپنی سانسوں کی خوشبو لٹا رہا تھا بہت
چمک رہے تھے ستارے ، تھی چاندنی پھیلی
فضا کا حسن بھی آنکھوں پہ چھا رہا تھا بہت
محبتوں کی بھی سرگوشیاں تھیں کانوں میں
سماں بھی پیار کے نغمے سنا رہا تھا بہت
تھی حسن و عشق کے لمحوں کی اک حرارت بھی
رگوں میں خون بھی شعلے جلا رہا تھا بہت
وہ اس کا پیار سے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ دینا
جوں امنگیں بھی دل میں جگا رہا تھا بہت
مرے بدن پہ حسیں چاند جھک کے شرمایا
محبتوں کی وہ کرنیں لٹا رہا تھا بہت
کیے تھے عہد و پیماں ساتھ جینے مرنے کے
یقین وقت بھی ہم کو دلا رہا تھا بہت
سماں وہ پیار کا جانے کہاں ہے اب زاہد
ہر ایک درد جو دل سے مٹا رہا تھا بہت
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






