وہ ملا مگر وہ ملا نہیں
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiوہ ملا مگر وہ ملا نہیں
مرا تھا مگر وہ ہوا نہیں
یہ عجب ہوا مرا ہمسفر
مرے ساتھ ساتھ چلا نہیں
جو ضرورتیں مجھے آ پڑیں
کوئی آشنا پھر دکھا نہیں
وہ شجر ہے کس کی دعا تلے
جو کہ آندھیوں میں گرا نہیں
وہ گمان تھا کہ یقین تھا
تھا وہ جو بھی دل سے گیا نہیں
میں محبتوں کا چراغ ہوں
کبھی آندھیوں سے بجھا نہیں
مری نسبتیں ہیں حسین سے
میں یزیدیوں سے ڈرا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






