وہ میری جان ہے دل سےلگانے آیا ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ میری جان ہے دل سےلگانے آیا ہوں
کہ اس کا غم ہی مرا ہے اٹھانے آیا ہوں
نظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دم رخصت
میں سوچتا ہوں کہ کس دل نبھانے آیا ہوں
وہ یاد یاد میں جھلکا ہے آئنے کی طرح
اس آئنہ میںاس کو ہی میں دکھانے آیا ہوں
وہ چند ساعتیں جو اس کے ساتھ گزری ہیں
انہی کا دور رہا ہے ملانے آیا ہوں
میں اس کے ہجر کی تاریکیوں میں ڈوبا تھا
وہ آیا گھر میں مرے مسکرانے آیا ہوں
وہ لوٹ آیا ہے یا میری خود فریبی ہے
نگاہ کہتی ہے دیکھے سنانے آیا ہوں
میں اپنے درد کی نسبت کو دل سمجھتا ہوں
قفس جو ٹوٹ گیا وہ لگانے آیا ہوں
اسی کی یاد ہے سرمایۂ حیات یاسر
میں محبتوں سے تمہیں لے کے جانے آیا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






