وہ میری غزلوں کے اشعار بنے ہیں
Poet: R.K JAZEB By: R.K JAZEB, Jeddahوہ میری لکھی غزلوں کے اشعار بنے ہیں
وہ میرے کہے گیتوں کے شاہکار بنے ہیں
کھلے آنکھ تو کرنوں میں ھے چہرہ اس کا
وہ میرے آنگن میں کھلے پھولوں کی مہکار بنے ہیں
وہ دور ہیں نگاھوں سے مگر دل کے قریب ھیں
وہ میری جاگتی آنکھوں کے طلبگار بنے ھیں
کھلتی ھوئی کلیوں میں بھی ھے انکی ہی خوشبؤ
ھر گلاب کے چہرے کا وہ سنگھار بنے ھیں
میری سانسوں میں مہک انکی سمٹ آتی ھے ہر پل
وہ میری ہر ایک تمناؤں کا اظہار بنے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







