وہ میری قبر کی زیارت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamوہ میری قبر کی زیارت کہ بہانے آئے ہیں
مجھے سدا کہ لیے میٹھی نیندسلانےآئےہیں
کتنےحسیں پھولوں کہ تحفے لائے ہیں
اپنے ہاتھوں سے میری تربت سجانےآئےہیں
ہم جیتے جی جن کی دید کو ترستے رہے
آج بنا حجاب وہ ہمیں جلانےآئے ہیں
جن کی جدائی میں روتے تمام عمرگزری
وہ اب میری لحد پہ آنسو بہانے آئے ہیں
آج انہیں ٰیوں اداس دیکھ کر اصغر
ہمیں ٰیاد خوشیوں بھرےزمانےآئےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






