وہ میرے پاس اور پاس بہت پاس رہتا ہے
Poet: Roshani By: Roshani, Lahoreوہ میرے پاس اور پاس بہت پاس رہتا ہے
دل کو میرے دھڑکن کا احساس بن کے رہتا ہے
میں آنکھیں بن رکھوں یا کھول کر دیکھوں
اک اس کا چہرہ ہی نظر میں خاص رہتا ہے
محبت تو عروج پر ہی رہتی ہے میری
میسر جو ہر پل اس کا ساتھ رہتا ہے
نہ ڈر ہے نہ خوف ہے بے درد زمانے کا
کرو یا مرو بس اک یہی سبق راس رہتا ہے
تو کیا ہوا میری محبت کو نام نہیں حاصل
لب مسکرا لیتے ہیں جب دل اداس رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






