وہ میرے پاس ہے میرے خوابوں کی طرح
Poet: Zahida Ali By: Zahida Ali, pakpattan sharifوہ میرے پاس ہے میرے خوابوں کی طرح
دور ہے مجھ سے تعبیروں کی طرح
ڈھونڈنے سے ملتا نہیں وہ مجھ کو مگر
سمویا ہوا ہے مجھ میں میرے ہاتھ کی لکیروں کی طرح
اس کا کیا کیجیئے جو بٹ چکا ہو
ہر اک کے پاس جاگیروں کی طرح
ہر اک مشتاق رہتا ہے اس کا ‘ محفل میں جب
اس کا حسن پھیل جاتا ہے چاند کی لکیروں کی طرح
خواب خود تک محدود رکھو تو بہتر ہے
پھیل نہ جائے دنیا میں بن کر سفیروں کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






