وہ نہ جانے حالِ دل کو کوئی تو جا بتائے اُس کو
Poet: عمران حسنی By: عمران حسنی , Lahoreوہ نہ جانے حالِ دل کو کوئی تو جا بتائے اُس کو
یاد سجن کی دل بہلائے کوئی تو جا سُنائے اُس کو
چہرہ گلاب سا دیکھ کر میں ہر پل یوں مہکتا ہوں
دید تیری بہار جو لائے کوئی تو جا دکھائے اُس کو
احساسِ محبت جاگا ھے جب سے اُس کو دیکھا ھے
دل کے راز کہہ دوں سب کوئی تو جا منائے اُس کو
تم اگر سمجھو راز ھے گہرا عشق توفیق گناہ نہیں
جٓام محبوبی بھر چکا اب کوئی تو جا پلائے اُس کو
حسنی ایسا عشق نبھا نہ آنسو یار کی آنکھ میں ہو
واری زندگی اُتارا صدقہ۔۔ اب کیا غم ستائے اُس کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






