وہ وقت بھی کیا وقت تھا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaوہ وقت بھی کیا وقت تھا
جب تمہیں صرف میری
طلب ہوا کرتی تھی
میری رات کو ہی تو
تمہاری صبح ہوا کرتی تھی
بارش برسنے سے پہلے ہی
تمہارے ہاتھوں میں
میرے لیے چھتری ہوا کرتی تھی
وہ قدم ، قدم پے ساتھ چلنا
وہ بہاروں میں ہماری کیسی
چہل قدمی ہوا کرتی تھی
وہ ستاروں بھری رات میں
اک دوسرے کو دیکھتے رہنا
وہ چاندی راتیں بھی لکی
کتنی عجیب ہوا کرتی تھی
وہ سحل سمندر پے جانا مگر
اک دوسرے میں ڈوب جانا
وہ پیار کی کشتی ڈوب کر بھی
کتنی حسین ہوا کرتی تھی
وہ ہر روز ملنا پر لبوں سے
کبھی اقرار نہ کرنا
وہ خاموشی میں آنکھوں سے
کتنی باتیں ہوا کرتی تھی
ہر پل ایک دوسرے کو سوچتے رہنا
وہ سوچیں بھی کتنی
لذیذ ہوا کرتی تھی
وہ بھی کیا وقت تھا لکی
جب مجھے تمہاری اور تمہیں
میری فکر ہوا کرتی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






