وہ پہلا دل وہ پہلی دل لگی تھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہوئی آغاز تو یہ زندگی تھی
وہ پہلا دل وہ پہلی دل لگی تھی
مری تنہائی ہے اتنی پرانی
خُدا جانے یہ کیسی بندگی تھی
یہاں کچھ لوگ تھے ان کی مہک تھی
کبھی یہ رہ گزر سے دوستی تھی
بس اک دھن تھی نبھا جانے کی اس کو
گنوانے میں ضرر ایسی کمی تھی
تمہارے اور میرے درمیاں کچھ
کسی دشمن نے پھیلائی ہوئی تھی
چلو اس دوستی نے کچھ دیا تو
غموں سے بھی شناسائی بنی تھی
کہیں تُم عکس کو وشمہ سمجھ لو
بہت سے آئنوں کی روشنی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







