وہ پیار کی حسیں رات ہو
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdسیج سجی ہو گلابوں کی وہ پیار کی حسیں رات ہو
ہاتھوں میں ہو ساجن ہاتھ تیرا وہ بہکے بہکے جذبات ہو.
مدھم مدھم ستاروں کی روشنی ہمارے خمیے کے باہر ہو
چاند بھی کچھ دیر چھپ جائے ایسی دلنشیں وہ ملاقات ہو.
وہ رات ختم نا ہو صدیوں تک چلتی رہے
وقت بھی ہم واری جائے ایسے وہ لمحات ہو
خوشبوں تیری محبت کی میری سانسوں میں رچ بس جائے
میری ذات پہ وہ تیرے پیار کی ایسی انمول سوغات ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






