وہ چھوٹی سی بات
Poet: SABA KOMAL By: SABA KOMAL, KSAکچھ کہتے ھوئے
میں رک کیوں گئی
وہ چھوٹی سی بات
میں کہہ ناں سکی
کہ شرم و حیا کے
رنگیں ستارے
میری گالوں پے
یوں جگمگانے لگے
اور جھکی پلکوؤں کے
سائے تلے
وفا کے دئیے ٹمٹمانے لگے
اور وہ مشرق کی ساری
حسیں تیتلیاں
میرے گرد گھیرا بنانے لگیں
میرے آنچل کو سایہ
بنا کر میرے گیسوؤں کو
یوں چھپانے لگیں
اور میں پھر کہتے ھوئے
رک کیوں گئی
وہ چھوٹی سی بات کہہ نا سکی
لبوں پہ رواجوں کے
دلنشیں پہروں نے
بڑے ناز سے یہ بتایا مجھے
تو محبت کی دیوی مشہور ھے
مگر تیرے مذھب کا
دستور ھے
کہ پلکوؤں کے ہلکے
سے جھکاؤ سے
اپنے دل کی بات
اسطرح کہہ دے
کہ ھونٹوں کو ناں
ہلانے کی ضرورت پڑے
اور شرم و حیا کے
نرم آنچل نے
مجھے اپنی بانہوں میں
اسطرح لے لیا
کہ میں کچھ کہتے ھوئے
رک سی گئی
اور وہ چھوٹی سی بات
اسطرح کہہ گئی
کہ آنکھوں میں جگنؤ
جگمگانے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






