وہ کون ہے جو زندگی کو ایک جیسا بنائے بیٹھا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ کون ہے جو زندگی کو ایک جیسا بنائے بیٹھا
وہ کون ہے جو شاعری کو پیشہ بنائے بیٹھا
کہیں جہاں کی بے وفائی تحریر ہو جاتی ہے
کبھی میری جفائی بھی تقریر بن جاتی ہے
بس نیندیں اڑتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کبھی الجھنیں بڑھتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کوئی سرگردان جو دھڑکنوں کو رعشہ بنائے بیٹھا
یہ حرف کہیں حجتوں سے رہائی نہیں کرتے
اپنے ظرف کسی کی چشم نمائی نہیں کرتے
کچھ مُرادیں سلگتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
یا یادیں کروٹ بدلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
کوئی عاجز حال زار کو وئشیہ بنائے بیٹھا
کچھ خلشیں قلم کی نوک کو مجبور کرتی ہیں
آئے دن سوچیں ہر سوچ کو مغرور کرتی ہیں
ہاں یہ راحتیں ڈھلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
یا تیری چاہتیں بدلتی ہیں تو لکھ لیتے ہیں
سنتوشؔ تُو بلاوجہ دل کو سیشہ بنائے بیٹھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






