وہ ہم سے ملیں گے یہی آس تھی ہمیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanوہ ہم سے ملیں گے یہی آس تھی ہمیں
نگائیں راستے میں یوں ہم دیکھتے رہے
ہوئی نہ کبھی ختم گھڑی انتظار دیکھتے رہے
ہم ہر راہ میں تجھے ہی دیکھتے رہے
چاھت کتنی دل پر اثر، دیکھتے رہے
ہم بار بار ان کو یوں دیکھتے رہے
کتنی طویل ھوگئ یہ شام غم میری
کھڑے ہم انتظار میں سحر دیکھتے رہے
اب انتظار انکا بے کار ہم دیکھتے رہے
ساقی تیری نظر کا پندار دیکھتے رہے
بھولی نہیں انتظار جدائی کا میں ابھی
مڑ مڑ کے بار بار تیری راہ دیکھتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






