وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer , Karachiمیں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
دنیا سے ناراض ہوکر
یا پھر اللہ کی پیاری بن کر
ہم کو روتا چھوڑ کر
میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
ہم تو چھوٹے تھے ماں
تیرے جگر گوشے تھے ماں
پھر ایسا کیا ہوا ماں
تو کیوں ہم کو چھوڑ گئی ماں
میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
گر تو ہمارے درمیاں ہوتی ماں
ہم بھی خوش ہوتے ماں
دوستوں سے ذکر کرتے تیرا
تیری شفقت کا تیری محبت کا ماں
میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
تیرے محبت بھرے خوف سے
تیرے ناراض ہونے کے ڈر سے
میں بھی دوستوں کی طرح
گھر لوٹ آتا ، تیرے ڈر سے
میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
میرے بچے دادی امی کہہ کر
جب تجھ سے لپٹ جاتے
اپنی دادی امی کا پیار پاجاتے
دادی امی کہاں ہیں
کیسی تھیں یہ نہ پوچھتے نہ پوچھ پاتے
میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






