ُپیار تمھارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Dastagir Nawaaz By: Dastagir Nawaaz, Hyderabadجو ملتا پیار تمہارا سدھر گئے ہوتے
بھٹکتے پھرنے سے بہتر تھا
گھر گئے ہوتے
ہمارے دل کا اندھیرا کہیں چلا جاتا
تمہارے حسن کے جلوے بکھر گئے ہوتے
کبھی نہ راہ بھٹکتے یہ قافلے اپنی
جو راہبر سبھی سیدھی ڈگر گئے ہوتے
ہماری داستاں ہوتی عظیم دنیا میں
وفا کی راہ میں چپ چاپ مرگئے ہوتے
نواز بہہ گئے ٓانکھوں سے اشک کی صورت
؛کسی کی ٓانکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






