ٹہنیوں پر شعر
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہچٹختے جائیں خیالوں کی ٹہنیوں پر شعر
کہ گل رخوں پہ لکھوں اور تتلیوں پر شعر
یہ بیت میرا تجھے ہچکیاں بندھا دے گا
کہے ہیں یوں تو بہت میں نے سسکیوں پر شعر
یہ اور بات کہ ہیں کور چشم اپنے لوگ
نمایاں میں نے رکھے برف چوٹیوں پر شعر
پگھل کے آب ہؤا ایک شخص برف مزاج
بڑے وثوق سے لکھتا تھا گرمیوں پر شعر
اٹھا اجیر کے تن سے جو بھاپ بن کے ابھی
دھویں سے ابر بنا آج چمنیوں پر شعر
جو آدمی کے لیئے ہوں کلنک کا ٹیکہ
اثر کرے گا نہ کچھ ایسے وحشیوں پر شعر
زمانہ ساز تھے کچھ، کچھ تو خود پرست بھی تھے
لکھائے تھپکی پہ کچھ نے تو دھمکیوں پر شعر
سبھی ہیں مست سے جنگل میں، ایک میں کہ مجھے
ملے ہیں رقص کناں خشک جھاڑیوں پر شعر
کیا ہے اس نے مرے غم سے جو تہی پہلو
رشیدؔ میں نے بھی رکھ چھوڑے پُتلیوں پر شعر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






