خوش ادا کا تھا
Poet: رشید حسرت By: Rasheed Hasrat, کوئٹہرکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا
میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا
مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا
وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز
کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا
میں جانتا ہوں اسے اب کے سر گرانی ہے
کہ زہر میں نے یونہی بے سبب نہ پھاکا تھا
کسی کے سرد رویّے انا کی آڑ میں تھے
یہ میرے حق پہ نہیں، زندگی پہ ڈاکہ تھا
لڑی میں وقت کی کس جا ہیں پھول، کانٹے کہاں؟
تمہارے سامنے انجان ایک خاکہ تھا
لدے ہیں پشت پہ اب بھی اداسیوں کے سال
ہر ایک دن مرے اندر کوئی چھناکا تھا
تمام عمر پہ اس پل کی راجدھانی رہی
کہ جس میں اس نے توجہ سے مجھ کو تاکا تھا
بنا رہا ہے یہ مرکز، سیاستوں کا رشیدؔ
ابھی کھلا ہے کہ دل، دل نہیں تھا ڈھاکہ تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






