پائی ہے اک گناہ کی سب سے بڑی سزا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامانگی خوشی تو رنج کے افسانے مل گئے
مجھ کو مرے ہی درد کے ویرانے مل گئے
پائی ہے اک گناہ کی سب سے بڑی سزا
اس کی نظر کے مجھ سے جو پیمانے مل گئے
زنبیل ہاتھ میں ہے تو مجھ کو خلوص دو
سمجھوں گی مجھ کو اپنے و بیگانے مل گئے
کچھ بھی نہ مل سکا یہاں تشنہ حیات میں
صد شکر پھر بھی درد کے پیمانے مل گئے
دیکھے جو میں نے سانپ یہاں آستین کے
پھر دفعتا ہی جھوٹ کے پروانے مل گئے
اس کو گمان ہے یہاں اپنے غرور پر
مجھ کو غمِ حیات کے ویرانے مل گئے
کانٹوں کی رہگزر میں بڑھے گا گلوں سے پیار
وشمہ چلیں جو بزم میں مے خانے مل گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






