پاگل سی لڑکی
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarاِک پاگل سی لڑکی نے لکھا ہے، بھُول نہ جانا ہم کو سجنا
دے چُکے ہم تن من اپنا، بھُول نہ جانا ہم کو سجنا
جب سے تم پردیس گئے، ہم کو پھر نہ یاد کیا
دل کو گھبراہٹ سی لگی ، کیا رُوٹ کیا ہے میرا سجنا
تُجھ سے ہی اب آس بندھی ہے، تو ہی ہے اب سب کچھ اپنا
پریت کی اب تم لاج نبھانا، بھُول نہ جانا ہم کو سجنا
دل میں چُھپا کے ہم کو رکھنا، دل سے لگا کے ہم کو رکھنا
جیون کو گُلزار کریں ہم، سپنا تو اب یہ ہی سجنا
اِک پاگل سی لڑکی نے لکھا ہے، بھُول نہ جانا ہم کو سجنا
دے چُکے ہم تن من اپنا، بھُول نہ جانا ہم کو سجنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






