پاگل سی وہ لڑکی
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaاوٹ سے ہٹ کر
آنکھوں میں کہتی ہے
مجھے تم سے پیار ہے
جان لیوا یہ محبت رے
مجھے انجان بنا دیتا ہے
اے کاش
قدرت ہوتی مجھے تو
ہواؤں پہ اُسے لکھ کر دیتا
یہ دل آپ کا ہوا
کہ کوئی چاہ کر بھی مٹا نہ سکتا
بس میں ہوتا تو
لہروں پہ یہ داستاں لکھتا
محبت زندگی ہے
کوئی اگ لگاتا بھی تو جلا نہ سکتا
وہ معصوم ہے، ناداں ہے، نا سمجھ ہے
مجھے معلوم ہے
مگر اُسے شیشے کا گھر بنانا ہے
اور
میں نے لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر دیکھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








