پتھر نہیں ہوں میں
Poet: Mohammad Sadiq Mushwani By: Mohammad Sadiq Mushwani, Quettaوہ کہتے ہیں دوست تیرا مقدر نہیں ہوں میں
تم کھوجاؤ اپنے ہوش وہ ساغر نہیں ہوں میں
کیوں الزام گریاں دیتے ہو ظالم خیال کر
چیخوں گا جب ستاؤگے پتھر نہیں ہوں میں
میں اپنے ہی گھر میں کسی قیدی کی طرح تھا
لیکن تمھارے شہر میں بےگھر نہیں ہوں میں
اس تار تار سے دامن پہ جاؤ نہ میرے یاروں
غم سے بھرا اک دل ہے بے ثمر نہیں ہوں میں
برسوں رہا وہ شخص میرے چھونے سے گریزاں
ہاں صادق تلوار بھی نہیں خنجر نہیں ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






