پردیس میں ہم عید منا لیں گے یقیں کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاڈھونڈیں گے کوئی دل کا نگر سوچ سمجھ کر
آنکھوں میں جو رکھا ہے سفر سوچ سمجھ کر
وہ ہم کو کسی بند گلی سے نہ چرا لے
چنتے ہیں محبت کی ڈگر سوچ سمجھ کر
وہ میری محبت کو حقیقت نہ سمجھ لیں
اخبار میں پڑھتے ہیں خبر سوچ سمجھ کر
تصویر سے وہ رنگ چراتے تو ہیں لیکن
ہونٹوں سے لگاتے ہیں مگر سوچ سمجھ کر
اس خوف سے اک عمر ہمیں نیند نہ آئی
کرتا نہ ہو ہم سے بھی مکر سوچ سمجھ کر
پردیس میں ہم عید منا لیں گے یقیں کر
جب ہم پہ وہ ڈالے گا نظر سوچ سمجھ کر
وہ اپنی حفاظت بھی کرے شہر میں جس نے
چھوڑا ہے مرے دل کا نگر سوچ سمجھ کر
وہ رنگ محبت ہے مری مانگ میں وشمہ
کرتا ہے مگر دل پہ اثر سوچ سمجھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






