پردیس میں
Poet: darakhshanda By: darakhshanda, houston پریتم پریت کے بول تم بھول رہے
تتلیو ں کے رنگوں میں رنگ میرے بھول رہے
پردیس میں میت میرے پردیس میں
پردیس میں تم پردیس میں ریت اپنی بھول رہے
رنگوں کے ہم نوا یہ کیسے رنگ ساز ہوے تم
رنگوں میں رنگ میرے ہی تم بھول رہے
سرسوں ہتھیلی پر سجاے برسوں بیت رہے
بے ساز و بے آواز میرے گیت رہے
ہم سے کیے وعدے بھی تیرے جھوٹ رہے
رنگیں خواب بنا تعبیر ہی ٹوٹ رہے
رنگوں کے ہمنوا یہ کیسے رنگ ساز ہوے تم
چنریا بیرنگ رہی کاگل میں چاندی کے تار سج رہے
پردیس میں میت میرے تم پردیس میں
پردیس میں تم پردیس میں جانے کیا کیا بھول رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






