پریشان زلفیں مکھڑے پہ یوں نہ گرایا کرو
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAپریشان زلفیں مکھڑے پہ یوں نہ گرایا کرو
اپنے عاشق کے دل کو یوں نہ دہلایا کرو
کبھی تو کچھ مروت سے کام لے لیتے ہیں
رقیبوں کے سامنے یوں نہ ہمیں جلایا کرو
ہم جانتے ہیں تیری اداسی کا سبب ہم ہیں
بیتی یادوں سے اپنے من کو نہ تڑپایا کرو
پیار میں جلنا ہی تھا تو قدم نہ بڑھاتے
اب اپنے دل سے ہمارے دل کو نہ جلایا کرو
آنکھوں کے رستے درد دل بہہ جائے گا
بس کبھی کبھار آنکھیں ہم سے ملایا کرو
گزرے حسین لمحوں کی حسین یادوں سے
جاوید! دل کے زخموں کو تم سہلایا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







