پر بُھلایا نہ گیا، عشق تھا پہلا پہلا
Poet: N A D E E M M U R A D By: NADEEM MURAD, Karachiعکس پانی میں جو دیکھا تو ہے گدلا گدلا
چاند کھڑکی سے نظر آتا ہے بدلا بدلا
بھول جاتے ہیں سبھی لوگ ہی پچھلا پچھلا
بس تگ و دو ہے سنور جائے کچھ اگلا اگلا
ایک پوشیدہ خزانہ تھا پسِ چلمن تھا
ایک دن دیکھ لیا، تھا بہت اجلا اجلا
دور اپنوں سے ہوا ہو گیا ٹکڑے ٹکڑے
پھر زمانوں میں کہیں دل مرا بہلا بہلا
اک نظر ہی نے ہلا دی تھی زمیں پیروں تلے
لڑکھڑاتے ہوئے پھر دل مرا سنبھلا سنبھلا
لاکھ چاہا کہ بھلا دوں وہ زمانہ ہی ندیم
پر بھلایا نہ گیا عشق تھا پہلا پہلا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






