پر دیس یہ بے گانہ تھا
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadاک حسیں پری تھی
ستاروں میں وہ پلی تھی
دنیا سے بےگانی تھی
پر تھوڑی سی دیوانی تھی
اپنی دھن میں رہتی تھی
تیتلیوں کے سنگ بہتی تھی
آنکھیں بند کرتی تھی
ڈرجاتی تھی
سانسوں کی روانی سے سہم جاتی تھی
خواب نگر سے دنیا کو دیکھا کرتی تھی
دنیا میں آنے کا سوچا کرتی تھی
پری ! پرستان سے باہر کبھی نہ نکلی
اک دن وہ زمین کی دنیا میں آ بسی
جہاں اسے اک دیوانہ ملا
الفت کا گل پھر سہانہ کھلا
ملاقاتوں میں محبت ہوئی
مت پوچھو پھر کیا قیامت ہوئی
شب کو پری اس کی آنکھوں میں سوتی تھی
دن کو دیوانے کے دل میں دھڑکتی تھی
زمیں کی ہوا سے ڈر جاتی تھی
دیوانے کی بانہوں میں سنور جاتی تھی
پر دیس یہ بے گانہ تھا
دو پل کی کہانی تھی
پری کو پرستان واپس جانا تھا
دیوانہ اسے چاھتا تھا
پاگلوں کی طرح اس پر مرتا تھا
پر دیس یہ بےگانہ تھا
پری کو پرستان واپس جانا تھا
وہ پری کو کھونے سے ڈرتا تھا
بےتحاشہ محبت کرتا تھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






