پر شاید تم مجھ سے محبت نہیں کرتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمانا میں تمہیں اچھی ضرور لگتی ہوں
پر شاید تم مجھ سے محبت نہیں کرتے
تم تو میرا بھرم بھی نہیں رکھتے
جس طرح سے میں کرتی ہوں تمہارا خیال
تم تو میرا خیال بھی نہیں کرتے
دن رات تو اک طرف ہیں جاناں
پر تم تو اک لحمہ بھی میرے نام نہیں کرتے
کس طرح سے کر لوں میں تمہارا اعتبار
جبکہ تم تو میرا اعتبار نہیں کرتے
یہ تو قدرت ہیں خدا کی جو ملا دیتی ہیں
پر تم تو میرا انتظار بھی نہیں کرتے
میری دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں
پر تم تو مجھے اپنوں میں شمار نہیں کرتے
میں کس طرف چل پڑی ہوں تیرے ساتھ
جہاں ساتھ ہوتے بھی تم مجھے اپنے ساتھ نہیں کرتے
یوں تو کہتے ہو ہر پل مجھے اپنی عزت
پر تم تو مجھے زمانے کی بدنامیوں سے آزاد نہیں کرتے
مانا میں تمہیں اچھی ضرور لگتی ہوں
پر شاید تم مجھ سے محبت نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






