پر عشق ہمارا مسلک ہے،
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiکب اہلِ خرد کی باتوں میں، یاں پَند و نصُوح کے پھُول نہیں
پر عشق ہمارا مسلک ہے، اِک پل دو پل کی بھُول نہیں
ساقی بھی ہے پیمانہ بھی، پھر رِند نہ کیوں بَد مست بھی ہوں؟
مئے خانہ میں عقل کی باتیں ہوں، یہ بات ذرا معقوُل نہیں
ہر ایک ادا کا دِل شاہد، ہر ایک ستم کا یہ ناظر
یاں جھُوٹ ہے نامُمکن گویا، اور ایک سند مجہُول نہیں
وہ دِل جو درد سے خالی ہے، وہ آہ دِکھاوے کی یارو
انبوُہ ریاکاروں کا بہت، پر ایک صدا مقبُول نہیں
سب لوگ یہاں پہ گھائل ہیں، اُس ایک نگاہ کے ترکش سے
ہے کون کہ جو مجروح نہیں، اور کون ہے جو مقتوُل نہیں؟
ہر ایک اُسی کا عاشق ہے، ہر آنکھ اُسی کی طالب ہے
حسرت میں اُس کی روز و شب، اِک ہم ہی یہاں مشغُول نہیں
سرور، خود محبّت ہوتی ہے، یہ من چاہے کا سودا نہیں
اِس کار میں دِل خود فاعل ہے، اور عشق کبھی مَفعُول نہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






