پنہاریوں کو سج گئے گھونگھٹ
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAپنہاریوں کو سج گئے گھونگھٹ
ویران پڑا ہے سارا پنگھٹ
کُھلے منہ نہ منہ اس کے لگنا
گوری تیرا ساجن ہے منہ پھٹ
پریم پہیلی بوجھ ہی لیں گی
تیری سنگی سکھیاں ہیں نٹ کھٹ
دل کی لگی بن جائے نہ روگ
جی کا زیاں یہ پیار کا جھنجھٹ
جانے کون گھڑی میں لوٹے ساجن
کھولے رکھنا تُو نینوں کے پٹ
بِنا ساجن کے جیون ہے کھنڈر
من مندر لاگے جیسے مرگھٹ
من کا سودا ہے سب سے مہنگا
تخت و تاج ہو جاتے ہیں تلپٹ
گوری بند کواڑوں کے پیچھے
سن رہی ہے قدموں کی آہٹ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






