پوجنے سے پتھر کبھی خدا نھیں ھوتے
Poet: MZ By: MZ, karachiپوجنے سے پتھر کبھی خدا نھیں ھوتے
وفاؤں کے صلے لازم وفا نھیں ھوتے
وہ مجھ سے میری محبت کی گہرائی پوچھتا ھے
چشمے جتنے بھی گہرے ھوں دریا نھیں ھوتے
ھر کسی کے جلنے کا اپنا انداز ھوتا ھے
پروانے جتنے بھی جلائیں مگر دیا نھیں ھوتے
تم جب بھی چلنا اپنے پیروں پر ھی چلنا
آج کل کے لوگ کسی کا آسرا نھیں ھوتے
وہ مجھے کانٹا سمجھ کر گرا گیا راھوں میں
اسے شاید نھیں خبر کہ پھول کبھی کانٹوں سے جدا نھیں ھوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






