پوچھ لیتا ہوں ترا حال نظر والوں سے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow(India) یہ نصیحت ہے مری شیشے کے گھر والوں سے
چھیڑ اچھی نہیں پتھر کے جگر والوں سے
اتنی بینائی نہیں دیکھ سکوں عید کا چاند
پو چھ لیتا ہوں ترا حال نظر وا لو ں سے
جان لیتے ہیں ا د ا ؤ ں سے حسینوں کا مزا ج
کچھ تو گر ہم نے بھی سیکھے ہیں ہنر والوں سے
حسن تو حسن ہے تڑپے کا نمائش کے لئے
کب تلک خود کو بچا ؤ گے نظر والوں سے
ہم سے رو پوش نہ ہو پا ئیں گے پرخار شجر
دکھتے ہیں صاف جد ا یہ تو ثمر والوں سے
ہے شرابوں میں تری گتنی ملا و ٹ صا قی
کیا چھپا نا بھلا ہم شام و سحر وا لوں سے
آئے گا سامنے سے خوف نہیں دشمن کا
ہم حسن ڈرتے ہیں بس اپنے ہی گھر والوں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






