پھر سمجھ لینا میں نے آپکو چاہا ہی نہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنہ کہو یہ کہ تو نے مدعا جانا ہی نہیں
میں نے جز تیرے ابھی اور تو لکھا ہی نہیں
تو پھر کیا بھاگنا ڈر کر فریب ہستی سے
جبکہ دامن پہ کوئی دست زلیخا ہی نہیں
وہ تماشہ کہ جس میں برف سے شعلے نکلیں
وہ تماشہ تو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں
چاندنی رات میں جل اٹھیں نہ پلکوں پہ چراغ
پھر سمجھ لینا میں نے آپکو چاہا ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں تو شاید وہ سچ ہی کہتے ہیں
حسن سے آگے ابھی سوچ نے سوچا ہی نہیں
عجیب بات ہے کہ وہ بھی مسیحا ٹھہرے
میرے زخموں کا جن کے پاس مداوا ہی نہیں
وہ جس میں سب سے اولیں تمہارا نام نہ ہو
عشق کی لغت میں ایسی کوئی دعا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






