پھر ملے ہم، جب بھی بچھڑے، دائرہ کم ہی رہا
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaپھر ملے ہم، جب بھی بچھڑے، دائرہ کم ہی رہا
تیری جانب سے جدائی، مسئلہ کم ہی رہا
مکر ہم کو بھول پن نے مات دی ورنہ تجھے
ٹھیک سے پہچان لیتے، شائبہ کم ہی رہا
صورت احوال کی گہرائیاں سمجھے نہ ہم
عکس کی منظر کشی کو آئنہ کم ہی رہا
ہم سمجھ پاتے اداوں کو تری شائد مگر
جور سے آزار سے کچھ واسطہ کم ہی رہا
داستاں زندہ رہی تھی زندگی کے بعد تک
مارنے رسوائیوں کو خاتمہ کم ہی رہا
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں تھا بس تنہا سفر
قافلوں سے راستے میں رابطہ کم ہی رہا
دور تک منزل کہاں؟ نامُ نشاں کوئی نہ تھا
اور کہنے کو دلوں میں راستہ کم ہی رہا
آس کے پیڑوں میں اظہر نے جو رکھی تھی لچک
توڑنے اک شاخ کو پھر زلزلہ کم ہی رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






