پھر نیند دستک نہیں دیتی پلکوں پہ
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdمجھے کوئی یاد آتا ہے شب بھر
خواب سہانے دکھاتا ہے شب بھر
نگاہوں سے نیند روٹھ گئی ہو جیسے
اسطرح کوئی جگاتا ہے شب بھر
ہلکی پھلکی چاندنی کے سائے میں
کوئی عکس لبھاتا ہے شب بھر
یاد کے جگنو پھر خوب جگمگاتے ہیں
جب کوئی ستاتا ہے شب بھر
ہواؤں کے ساتھ سفر جاری رہتا ہے
جب کوئی چھو کر جاتا ہے شب بھر
اک پھول گلاب کا تیرتا رہتا ہے
اور پانی نئی کہانی بناتا ہے شب بھر
سفیدی فلک کی جب زمیں پہ اترتی ہے
کسی کا جادوائی حصار بن جاتا ہے شب بھر
پھر نیند دستک نہیں دیتی پلکوں پہ
جب کوئی دیپ جلاتا ہے شب بھر
پیار کی اک تمنا طوفانی
لہر بن جاتی ہے
جب کوئی سوچ میں سماتا ہے شب بھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






