پھر چلے جانا
Poet: Saima By: Saima Waheed, Sharjah-UAEابھی کچھ سانسیں باقی ہیں
گزر جانے دو
پھر چلے جانا
یا پھر سرگوشیاں دل کی سنا دو
پھر چلے جانا
جو میرا اور تمہارا وقت گزرا
ہنسنے رونے میں
اسے پوری طرح سے تم بھلا دو
پھر چلے جانا
کسی کو چاہنے کا
اور
کسی سے چاہے جانے کا
جو ہے احساس
تم اس کو بھلا دو
پھر چلے جانا
بس اک ہنسی سے اپنے اشکوں کو چھپانے کا
جو فن آتا ہے تم کو
وہ سکھا دو
پھر چلے جانا
وہ جو اک لفظ محبت ہے
جدا ہے اپنے معانی سے
بس ان الفاظ کے معانی کو مٹا دو
پھر چلے جانا
جو کہتے کہتے رک جائے
ان ساری باتوں کی سماعت کو طلب ہے
وہ سنا دو
پھر چلے جانا
نا جانے کیوں ہے
لیکن
دیکھنے کی تم کو عادت ہے
میری یہ جان لیوا عادت چھڑا دو
پھر چلے جانا
میرے ان روز و شب کا
اک فقط عنوان بس تم ہو
مجھے تم دوسرا عنوان لا دو
پھر چلے جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







