پھولوں کا موسم یہ حسیں موسم
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahپھولوں کا موسم یہ حسیں موسم
یہ زندگانی اور ستاروں کا موسم
پھیلے ہر سؤ خشبؤ بہار کی
جوبن پہ ھے جوانی خمار کی
اپنی تو شامیں تیرے انتظار کی
مسکرائیں نظارے بہاروں کا موسم
یہ زندگانی اور ستاروں کا موسم
تمناؤں کا آنچل لہرا رہا ھے
نگاھوں میں نشہ سا چھا رہا ھے
فضاؤں کو ہر لمحہ مہکا رہا ھے
بہکے ھے تن من دعاؤں کا موسم
یہ زندگانی ھے ستاروں کا موسم
بکھری ھوئی ہیں آنگن میں کلیاں
نکھری ھوئی ہیں صبح کی کلیاں
ڈوبے نظارے منائیں رنگ رلیاں
جھکتی ہیں پلکیں حیاؤں کا موسم
یہ زندگانی ھے ستاروں کا موسم
ابلتے ہیں چشمے آج نشے میں
کوئی نہیں ھے آج اپنے بس میں
بھنورے بھی ڈوبے کلیوں کے رس میں
چاند بھی ھے رقص میں ھواؤں کا موسم
یہ زندگانی ھے ستاروں کا موسم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






