پھول لے کر گلابوں کے ارادوں میں چلے آنا
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadپھول لے کر گلابوں کے ارادوں میں چلے آنا
وقت ہو تو کبھی میرے خوابوں میں چلے آنا
بھولوں اگر تجھے میں تو زندگی کا سبق بن کر
کتابوں کی طرح میرے نصابوں میں چلے آنا
بھرم میری چاہتوں کا کبھی تم بھی زرا رکھنا
تجھے میں جو پکاروں تو سرابوں میں چلے آنا
طلب ہو جو تمہیں ملنے کی اب حقیقت میں تو
دیدار کے جام لے کر شرابوں میں چلے آنا
ملے ساجد تجھے وہ تو صرف اتنا اسے کہنا
خوشبو کی طرح میرے گلابوں میں چلے آنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






