پھول کلیوں میں باس اگ آئے
Poet: Syed Faheem By: Syed Faheem, Islamabadپھول کلیوں میں باس اگ آئے
میرے سینے میں یاس اگ آئے
سینئہ سنگ پہ وہ پاوں رکھے
سنگِ مرمر پہ گھاس اگ آئے
ہائے دہقان کتنے پیاسے تھے
کھیتیوں میں گلاس اگ آئے
کیسے ڈھانپے گی پگلی اپنا تن
جب بدن پر کپاس اگ آئے
گھر میں پہلی بہو قدم رکھے
ہر دریچے سے ساس اگ آئے
نسلِ آدم کو دیکھ کر عریاں
مچھلیوں کے لباس اگ آئے
تپتے صحرامیں دیکھ کر بادل
مردہ تن میں بھی آس اگ آئے
وہ کسی شہر بھی چلی جائے
لوگ کچھ آس پاس اگ آئے
اک حسیں چہرہ سوگوار ہوا
کتنے شاعر اداس اگ آئے
سوچ کر کربلا کے سوکھے لب
دل میں دریا کے پیاس اگ آئے
وقت کی دھوپ کے سرکتے ہی
کتنے چہرہ شناس اگ آے
حسن جتنی بھی احتیاط کرے
عاشقوں کی کلاس اگ آئے
محفلوں میں کسی کے آتے ہی
بوڑھی ہڈیوں پہ ماس اگ آئے
مخملیں جسم کی حرارت سے
تن بدن میں بھڑاس اگ آئے
سرخ ہونٹوں کا سوچ کر سید
فکر میں بھی مٹھاس اگ آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






