پھول گلشن میں کھل گیا ہوگا
Poet: By: AB shahzad, Mailsiپھول گلشن میں کھل گیا ہوگا
اس پہ لگ اب تو پھل گیا ہوگا
جس شخص کا ہے انتظار مجھے
گھر سے اپنے نکل گیا ہوگا
اس لیے آ ادھر نہیں پایا
رستے میں کوئی مل گیا ہوگا
رونما ایسے ہی ہوا تھا جو
حادثہ اب تو ٹل گیا ہوگا
کیسے رکھتا وہ خود کو قابو میں
آدمی ہے وہ ہل گیا ہوگا
اس لیے ساتھ دے رہا ہے وہ
اس کا بس لگ تو دل گیا ہوگا
اس لیے چپ ہی بیٹھا ہے شہزاد
مل صبر کا ہی پھل گیا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






