پھیلتی کابینہ
Poet: Riaz-ur-Rehman Saghar By: Bakhtiar Nasir, Lahoreجن کے “ ابے“ وزیر ہوتے ہیں
وہ بڑے “ رسہ گیر“ ہوتے ہیں
نہیں انساں کو مانتے انساں
ایسے “ منکر نکیر“ ہوتے ہیں
پھیلتی جا رہی ہے کابینہ
کیسے آسان ہو گا اب جینا
سہنا ہوگا غریب لوگوں کو
ان وزیروں کا کھانا اور “ پینا“
جو وزیر اور سفیر ہوتے ہیں
دن بدن وہ امیر ہوتے ہیں
لوگ متوسط اور غریب ہیں جو
بھوکے پیاسے‘ فقیر ہوتے ہیں
اے خدا تو ہے ہمدم و ہمراز
رسی ظالم کی کر نہ اور دراز
اب تو جابرکے سرپہ برسا دے
وہ جو لاٹھی تیری ہے بے آواز
مجھ سے اک یار نے سوال کیا
عمر بھر کیوں نہ جمع مال کیا
عرض کی‘ آن مانگتا تھا قلم
اسکی خواہش کا بس خیال کیا
جسم آسائشوں کے بن ہوگا
دل تو ہر طرح مطمئن ہوگا
رات کو خوب نیند آئے گی
صبح روشن‘ چمکتا دن‘ ہوگا
عمر بے فکر فاقہ گزرے گی
روح بھی پائے گی توانائی
چین سے جی سکیں گے مرنے تک
ماں سے یہ آخری دعا پائی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






