پہلا پیار
Poet: Asad By: Asad, mpk اک نظر اور اٹھا اس دل کو قرار بخش دے
بھیک نایاب عطا کر تو اپنا پیار بخش دے
جو کسی طرح بھی زمانے نے نہ پایا ہو کبھی
ہاں ھمیں ایسا تو کوئی اختیار بخش دے
چوٹ گہری ھے لگی دل پر پیار میں تیرے
غم کے مارے نہ مر جائیں تھوڑا اعتبار بخش دے
دل کے تاریک اندھیروں میں چراغ امید ھو تم
ما سوا تیرے نہیں کچھ تو آپ یار بخش دے
گر ہوئی کوئی بھی خطا ھے یار سرزد ھم سے
تو ایک بار کی معافی دے اب کی بار بخش دے
ہوں کب سے بیٹھا بے کار نکما زمانے میں
نہ سہی کچھ اور چلو مانہ غم روز گار بخش دے
اسد کی عرضی تو سن لے کہ تہہ دل مانگتا ھے
وہ پہلی سی محبت وہ پہلا پیار بخش دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






