پہلی سی انتظار کی شدت نہیں رہی
Poet: Ruqayyah Maalik By: Ruqaqyyah Maalik, Lahoreپہلی سی انتظار کی شدت نہیں رہی
یعنی کہ ضبط درد کی ہمت نہیں رہی
ایسا نہیں کہ تم سے محبت نہیں رہی
تیری وفا کی لیکن ضرورت نہیں رہی
آؤ گے تو ضرور تواضع کریں گے ہم
پر وہ بلائیں لینے کی عادت نہیں رہی
گویا ہم اہل حسن کے قابل نہیں رھے
گر ہم میں وہ ادا وہ نزاکت نہیں رہی
دیکھا کرے گا کون اب معاملات شہر
بینا تھے جو انھی کی بصارت نہیں رہی
دنیا تیرے مزاج نے جینا سکھا دیا
لے دیکھ ہم میں کوئ شرارت نہیں رہی
چل دل تو سوئے دار چل کیا کام اب تیرا
جس پہ تھا تو دھڑکتا وہ آہٹ نہیں رہی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






